Urdu Book
Entered Pages:
- Part 1 End
- sfdsfds
- sdfdsf
- انشائ اللہ جلد ثانی میں آپ پڑھیں گے مندرجہ ذیل اعتراضات کے جوابات
علمائے دیوبند پر یزیدیت کا الزام
علمائے دیوبند پر خارجیت کا الزام
علمائے دیوبند پر رافضیت کا الزام
علمائے دیوبند پر قادیانیت کا الزام
علمائے دیوبند پر انگریز نوازی کا الزام
علمائے دیوبند پر مخالفت پاکستان کا الزام
نوٹ:کتابت کی تصحیح میں حتی الامکان کوشش کی گئی ہے مگر بشر ہونے کے ناطے کتاب اغلاط سے مبرا نہیں ہوسکتی اس لئے کوئی غلطی نظر آئے تو مطلع فرمائیں ۔نیز کوئی ایسا اعتراض جس کا جواب اس جلد میں نہیں دیا گیا ہمیں ارسال فرمائیں انشاٗ اللہ اگلی جلد میں اس اعتراض کا جواب شامل کرلیا جائے گا۔جزاکم اللہ۔
- ہیں یعنی جماع کرنا ‘‘۔ ( تسکین الجنان:ص۵۹؍مکتبہ امام احمد رضا)
رضاخانی تاویل:
اعلی حضرت نے اپنی طرف سے نہیں کہا زرقانی کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
جواب: جہاں تک علامہ زرقانی ؒ کی بات ہے تو انہوں نے تو علی بن عقیل حنبلی کے حوالے سے صرف اتنی بات نقل کی ہے:
’’قال ابن عقیل حنبلی ویضاجع ازواجہ و یستمتع بھن اکمل من الدنیا ۔۔۔الخ‘‘۔(زرقانی علی المواہب: ج۲ص۱۶۹)
علامہ زرقانی نے اس قول کو جس شخصیت کی طرف منسوب کیا ہے وہ کس قسم کی ذہنیت رکھتا کتب اسماء الرجال میں دیکھیں کہ یہ علی بن عقیل بدعتی تھا معتزلی تھی اکابر کی مخالفت کی (میزان الاعتدال ،ج،ص۱۴۶للذہبی)اس نے سنت سے انحراف کیا اس زمانے میں بدعات میں اس کی نظیر نہیں ملتی (سیر اعلام النبلاء،ج۱۹،ص۴۴۵,۴۵۶)مزید تفصیل کیلئے ابن اثیر ،ذیل الطبقات اور اللسان وغیرہ کا مطالعہ کریں۔ایسے بدعتی اور معتزلی کے قول پر اس طرح عقیدے کی بنیاد قائم کرتے ہوئے کچھ تو حیاء کرنی چاہئے۔پھر ابن عقیل کی پوری عبارت چھان مار لیں آپ کو کسی عربی عبارت کا یہ ترجمہ نہیں ملے گا ’’ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں‘‘بہرحال احمد رضاخان نے جس گستاخی کا ارتکاب کیا ہے وہ ابن عقیل کے نقل سے عین ایمان نہیں بن جائے گا ۔
تلک عشرۃ کاملۃ
الحمد للہ جلد اول مکمل ہوگئی ان شاء اللہ مزید اعتراضات کے جوابات اب جلد ثانی میں دئے جائیں گے۔